ولوطا اتيناه حكما وعلما ونجيناه من القرية التي كانت تعمل الخبايث انهم كانوا قوم سوء فاسقين ٧٤ وادخلناه في رحمتنا انه من الصالحين ٧٥
وَلُوطًا ءَاتَيْنَـٰهُ حُكْمًۭا وَعِلْمًۭا وَنَجَّيْنَـٰهُ مِنَ ٱلْقَرْيَةِ ٱلَّتِى كَانَت تَّعْمَلُ ٱلْخَبَـٰٓئِثَ ۗ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمَ سَوْءٍۢ فَـٰسِقِينَ ٧٤ وَأَدْخَلْنَـٰهُ فِى رَحْمَتِنَآ ۖ إِنَّهُۥ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ ٧٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
حکمت سے مرادمعرفت اور علم سے مراد وحی ہے۔ حضرت لوط کو یہ چیزیں عطا ہوئیں۔ دوسرے تمام پیغمبروں کو بھی یہ چیزیں دی جاتی رہی ہیں۔ اب ختم نبوت کے بعد وحی کا قائم مقام قرآن ہے۔ تاہم حکمت (معرفت) سے غیر پیغمبروں کو بھی بقدرِ استعداد حصہ ملتا ہے۔
جن لوگوں پر اللہ کی نظر ہوتی ہے وہ ان کا ولی وکارساز بن جاتا ہے۔ وہ ان کو برے لوگوں کے ماحول سے نکال کر اچھے لوگوں کے ماحول میں لے جاتاہے۔ وہ زندگی کے ہر موڑ پر ان کا مدد گار بن جاتا ہے۔ وہ ان کو وہ حکمت عطا فرماتا ہے جس کے بعد ان کی پوری زندگی رحمتِ خداوندی کے آبشار میں نہا اٹھتی ہے۔