ونجيناه ولوطا الى الارض التي باركنا فيها للعالمين ٧١
وَنَجَّيْنَـٰهُ وَلُوطًا إِلَى ٱلْأَرْضِ ٱلَّتِى بَـٰرَكْنَا فِيهَا لِلْعَـٰلَمِينَ ٧١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

یہ مقابلہ محض دو قسم کے آدمیوں کے کرتب کا مقابلہ نہ تھا بلکہ وہ توحید اور شرک کا مقابلہ تھا۔ یعنی اس کے ذریعہ سے یہ فیصلہ ہونا تھا کہ صداقت شرک کی طرف ہے یا توحید کی طرف۔ چوں کہ فرعون کی بڑائی کی بنیاد تمام تر شرک کے اوپر قائم تھی اس ليے وہ شرک کی شکست کو برداشت نہ کرسکا اور جادوگروںکے ليے اس سخت ترین سزا کا حکم سنا دیا جو مصرمیں قدیم زمانہ میں رائج تھی۔

فرعون جب دلیل کے میدان میں ہار گیاتو اس نے یہ کوشش کی کہ طاقت کے ذریعہ حق کو دبا دے۔ یہ ہر زمانہ میں ارباب اقتدار کی عام نفسیات رہی ہے، خواہ وہ شاہانہ اختیار رکھنے والے اربابِ اقتدار ہوں یا غیر شاہانہ اختیار رکھنے والے۔