قال بل ربكم رب السماوات والارض الذي فطرهن وانا على ذالكم من الشاهدين ٥٦
قَالَ بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ٱلَّذِى فَطَرَهُنَّ وَأَنَا۠ عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ ٥٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

وَاَنَا عَلٰی ذٰلِکُمْ مِّنَ الشّٰہِدِیْنَ ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں علیٰ وجہ البصیرت یہ بات کہہ رہا ہوں ‘ مجھے اس میں ذرا بھی شک نہیں۔ حضور ﷺ کو بھی اپنی دعوت کے سلسلے میں بالکل اسی طرح قطعی الفاظ میں اعلان کرنے کا حکم دیا گیا : قُلْ ہٰذِہٖ سَبِیْلِیْ اَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰہِقف عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ ط یوسف : 108 ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے ‘ میں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ ‘ میں خود بھی اور وہ بھی جو میری پیروی کر رہے ہیں۔“