قل من يكلوكم بالليل والنهار من الرحمان بل هم عن ذكر ربهم معرضون ٤٢ ام لهم الهة تمنعهم من دوننا لا يستطيعون نصر انفسهم ولا هم منا يصحبون ٤٣
قُلْ مَن يَكْلَؤُكُم بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ مِنَ ٱلرَّحْمَـٰنِ ۗ بَلْ هُمْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِم مُّعْرِضُونَ ٤٢ أَمْ لَهُمْ ءَالِهَةٌۭ تَمْنَعُهُم مِّن دُونِنَا ۚ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَ أَنفُسِهِمْ وَلَا هُم مِّنَّا يُصْحَبُونَ ٤٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
خداکی پکڑ کا مسئلہ کسی دور دراز مستقبل کا مسئلہ نہیں ہے۔ وہ اسی دن رات کے اندر چھپا ہوا ہے جس میں آدمی اپنے آپ کو مامون ومحفوظ سمجھتا ہے۔ مثلاً سورج اور زمین کا فاصلہ اگر نصف کے بقدر گھٹ جائے تو ہمارے دن اتنے گرم ہوجائیں کہ وہ ہم کو آگ کے شعلہ کی طرح جلادیں۔ اس کے برعکس، اگر زمین سے سورج کا فاصلہ دگنا بڑھ جائے تو ہماري راتیں اتنی ٹھنڈی ہوجائیں کہ ہم برف کی طرح جم کر رہ جائیں۔
زمین وآسمان کا یہ حد درجہ موافق نظام جس نے قائم کر رکھا ہے وہ اس قابل ہے کہ انسان اپنی تمام عقیدتیں اور وفاداریاں اس سے وابستہ کرے، نہ کہ وہ ان جھوٹے معبودوں کی پرستش کرنے لگے جو اس کو کچھ نہیں دے سکتے۔