You are reading a tafsir for the group of verses 21:37 to 21:41
خلق الانسان من عجل ساريكم اياتي فلا تستعجلون ٣٧ ويقولون متى هاذا الوعد ان كنتم صادقين ٣٨ لو يعلم الذين كفروا حين لا يكفون عن وجوههم النار ولا عن ظهورهم ولا هم ينصرون ٣٩ بل تاتيهم بغتة فتبهتهم فلا يستطيعون ردها ولا هم ينظرون ٤٠ ولقد استهزي برسل من قبلك فحاق بالذين سخروا منهم ما كانوا به يستهزيون ٤١
خُلِقَ ٱلْإِنسَـٰنُ مِنْ عَجَلٍۢ ۚ سَأُو۟رِيكُمْ ءَايَـٰتِى فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ ٣٧ وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ٣٨ لَوْ يَعْلَمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ ٱلنَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ ٣٩ بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةًۭ فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ ٤٠ وَلَقَدِ ٱسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍۢ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِٱلَّذِينَ سَخِرُوا۟ مِنْهُم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ٤١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

عرب کے لوگ آخرت کے منکر نہ تھے۔ وہ آخرت کی اس نوعیت کے منکر تھے جس کی خبر انھیں ان کی قوم کا ایک شخص ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ دے رہا تھا۔ انھیں فخر تھا کہ وہ ایک ایسے دین پر ہیں جو ان کی کامیابی کی یقینی ضمانت ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس یقین کی تردید کی تو وہ بگڑ گئے۔ وہ اپنی بے خوف نفسیات کی بناپر یہ کہنے لگے کہ وہ عذاب ہمیں دکھاؤ جس کی تم ہم کو دھمکی دے رہے ہو۔

فرمایا کہ ان کی یہ جلد بازی صرف اس ليے ہے کہ ابھی امتحان کے دور میں ہونے کی وجہ سے وہ عذاب سے دور کھڑے ہوئے ہیں۔ جس دن یہ مہلت ختم ہوگی اور خدا کا عذاب انھیں گھیر لے گا، اس وقت ان کی سمجھ میں آجائے گا کہ رسول کی دعوت کے بارے میں سنجیدہ نہ ہو کر انھوں نے کتنی بڑی غلطی کی تھی۔