You are reading a tafsir for the group of verses 19:7 to 19:8
يا زكريا انا نبشرك بغلام اسمه يحيى لم نجعل له من قبل سميا ٧ قال رب انى يكون لي غلام وكانت امراتي عاقرا وقد بلغت من الكبر عتيا ٨
يَـٰزَكَرِيَّآ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَـٰمٍ ٱسْمُهُۥ يَحْيَىٰ لَمْ نَجْعَل لَّهُۥ مِن قَبْلُ سَمِيًّۭا ٧ قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِى غُلَـٰمٌۭ وَكَانَتِ ٱمْرَأَتِى عَاقِرًۭا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ ٱلْكِبَرِ عِتِيًّۭا ٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

یہ دعا بیٹے کی صورت میں قبول ہوئی۔ ایک ایسا بیٹا جیسا بیٹا عام طورپر لوگوں کے یہاں پیدا نہیں ہوتا۔ ایک شخص جو آخری حد تک بوڑھا ہوچکا ہو ا ور جس کی بیوی پوری عمر تک بانجھ رہی ہو۔ اس کے یہاں بچہ پیدا ہونا یقیناً ایک انتہائی غیر معمولی بات ہے۔ اس بنا پر حضرت زکریا کو اس خبر پر خوشی کے ساتھ تعجب بھی ہوا۔ ملنے والی نعمت کے غیر متوقع ہونے کا احساس ان کی زبان سے ان الفاظ میں نکل پڑا کہ میرے یہاںکیسے بچہ پیدا ہوگا جب کہ میں اور میری بیوی دونوںاس اعتبار سے از کار رفتہ ہوچکے ہیں۔