۞ وتركنا بعضهم يوميذ يموج في بعض ونفخ في الصور فجمعناهم جمعا ٩٩ وعرضنا جهنم يوميذ للكافرين عرضا ١٠٠ الذين كانت اعينهم في غطاء عن ذكري وكانوا لا يستطيعون سمعا ١٠١
۞ وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍۢ يَمُوجُ فِى بَعْضٍۢ ۖ وَنُفِخَ فِى ٱلصُّورِ فَجَمَعْنَـٰهُمْ جَمْعًۭا ٩٩ وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْكَـٰفِرِينَ عَرْضًا ١٠٠ ٱلَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِى غِطَآءٍ عَن ذِكْرِى وَكَانُوا۟ لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا ١٠١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
قیامت آنے کے بعد موجودہ دنیا ایک اور دنیا بن جائے گی۔ اس وقت غالباً ایسا ہوگا کہ دریاؤں اور پہاڑوں کی موجودہ حد بندیاں توڑ کر ختم کر دی جائیں گی۔ انسانوں کا ایک ہجوم ہوگا جو ایک دوسرے سے اسی طرح ٹکرائے گا جس طرح سمندر میں موجیں ٹکراتی ہیں۔
آج لوگوں کو عقل کی آنکھ سے جہنم دکھائی جارہی ہے تو وہ ان کو نظر نہیں آتی۔ قیامت میں لوگوں کو پیشانی کی آنکھ سے جہنم دکھائی جائے گی۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا۔ مگر یہ دیکھنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوںکہ نصیحت کے ذریعہ جس نے اپنی آنکھ کا پردہ ہٹایا وہی پردہ ہٹانے والا ہے۔ ورنہ قیامت کے دن پردہ ہٹایا جانا تو صرف اس لیے ہوگا کہ سرکشی کرنے الوں کو ان کے آخری انجام تک پہنچا دیا جائے۔