اما السفينة فكانت لمساكين يعملون في البحر فاردت ان اعيبها وكان وراءهم ملك ياخذ كل سفينة غصبا ٧٩
أَمَّا ٱلسَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَـٰكِينَ يَعْمَلُونَ فِى ٱلْبَحْرِ فَأَرَدتُّ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَآءَهُم مَّلِكٌۭ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًۭا ٧٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

حضرت خضر نے کشتی کو بیکار نہیں کیا تھا بلکہ وقتی طورپر اس کو عیب دار بنا دیا۔ اس کی مصلحت یہ تھی کہ کشتی جس طرف جارہی تھی اس طرف آگے ایک بادشاہ تھا جو غالباً اپنی کسی جنگی مہم کے لیے اچھی کشتیوں کو زبردستی اپنے قبضہ میں لے رہا تھا۔ چنانچہ انھوں نے اس کو ایسا بنا دیا کہ بادشاہ کے کارندے اس کو دیکھیں تو اس کو ناقابلِ توجہ سمجھ کر اسے چھوڑ دیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ بددل نہ ہو۔ وہ یہ سوچ کر اس پر راضی ہوجائے کہ خدا نے جو کچھ کیا ہے اس میں اس کے لیے کوئی فائدہ چھپا ہوگا، اگر چہ وہ ابھی اس سے پوری طرح باخبر نہیں۔