عبدصالح اب بطور تاکید دوبارہ صبر کی تلقین کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے ساتھ رہنے کی شرط یہ ہے کہ میرے تصرفات کی بابت آپ کوئی سوال نہ کریں گے ، یہاں تک کہ وہ خود ان تصرفات کی حقیقت بیان نہ کردوں۔