You are reading a tafsir for the group of verses 18:60 to 18:62
واذ قال موسى لفتاه لا ابرح حتى ابلغ مجمع البحرين او امضي حقبا ٦٠ فلما بلغا مجمع بينهما نسيا حوتهما فاتخذ سبيله في البحر سربا ٦١ فلما جاوزا قال لفتاه اتنا غداءنا لقد لقينا من سفرنا هاذا نصبا ٦٢
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَىٰهُ لَآ أَبْرَحُ حَتَّىٰٓ أَبْلُغَ مَجْمَعَ ٱلْبَحْرَيْنِ أَوْ أَمْضِىَ حُقُبًۭا ٦٠ فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُۥ فِى ٱلْبَحْرِ سَرَبًۭا ٦١ فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَىٰهُ ءَاتِنَا غَدَآءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَـٰذَا نَصَبًۭا ٦٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

خدا فرشتوں کے ذریعہ مسلسل دنیا کا انتظام کررہا ہے۔ انسان چوں کہ اس انتظام کو نہیں دیکھتا، وہ اس کے بھیدوں کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا۔ وہ کم تر واقفیت کی بناپر طرح طرح کے شبہات میں مبتلا ہوجاتاہے۔

اس کے علاج کے لیے خدا نے بالواسطہ مشاہدہ کا انتظام کیا۔ اس نے اپنے چنے ہوئے بندوں کو مخفی دنیا کا مشاہدہ کرایا تاکہ وہ اس کی حکمتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور دوسرے انسانوں کو اس سے باخبر کردیں۔ یہاں حضرت موسیٰ کے جس واقعہ کا ذکر ہے وہ اسی قسم کا ایک استثنائی واقعہ ہے جس کے ذریعے ان کو خداکے چھپے ہوئے نظام کی ایک جھلک دکھائی گئی۔

حضرت موسیٰ نے یہ سفر غالباً مصر وسوڈان کے درمیان اپنے ایک نوجوان شاگرد (یوشع بن نون) کے ساتھ کیا تھا۔ خدا نے بطور علامت انھیں بتایا تھاکہ تم چلتے رہو۔ یہاں تک کہ جب تم اس جگہ پہنچو جہاں دو دریا باہم ملتے ہوں تو وہاں تم کو ہمارا ایک بندہ (غالباً فرشتہ به شکل انسان) ملے گا۔ تم اس کے ساتھ ہو لینا۔