وربك الغفور ذو الرحمة لو يواخذهم بما كسبوا لعجل لهم العذاب بل لهم موعد لن يجدوا من دونه مويلا ٥٨ وتلك القرى اهلكناهم لما ظلموا وجعلنا لمهلكهم موعدا ٥٩
وَرَبُّكَ ٱلْغَفُورُ ذُو ٱلرَّحْمَةِ ۖ لَوْ يُؤَاخِذُهُم بِمَا كَسَبُوا۟ لَعَجَّلَ لَهُمُ ٱلْعَذَابَ ۚ بَل لَّهُم مَّوْعِدٌۭ لَّن يَجِدُوا۟ مِن دُونِهِۦ مَوْئِلًۭا ٥٨ وَتِلْكَ ٱلْقُرَىٰٓ أَهْلَكْنَـٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوا۟ وَجَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِم مَّوْعِدًۭا ٥٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
آدمی حق کے مقابلہ میں سرکشی کرتاہے تو اس کو فوراً اس کی سزا نہیں ملتی۔ اس سے غلط فہمی میں پڑ کر وہ اپنے کو آزاد سمجھ لیتاہے اور مزید سرکشی کرنے لگتا ہے۔ حالاں کہ یہ نہ پکڑا جانا، امتحان کی مہلت کی بنا پر ہے، نہ کہ آزادی اور خود مختاری کی بنا پر۔
آدمی سبق لینا چاہے تو ماضی کا انجام اس کے سامنے موجود ہے جس سے وہ حال کے لیے سبق لے سکتاہے۔ سطح زمین پر بار بار مختلف قومیں اور تہذیبیں ابھر ی ہیں اور تباہ کردی گئی ہیں۔ جب پچھلی نسلوں کے ساتھ ایسا ہوا کہ انھیں ان کی سرکشی کی سزا ملی تو اگلی نسلوں کے ساتھ یہی واقعہ کیوں نہیں ہوگا۔