آدم ابلیس کے اس قدیمی قصے کی طرف یہاں ایک اشارہ سا کیا گیا ہے اور یہ بھی بطور تعجب کے کہ ابن آدم پھر بھی ابلیس اور اس کی ذریت کو دوست بناتے ہیں حالانکہ ابلیس ابن آدمی کا قدیمی دشم نہ اور یہ تکریم آدم کی وجہ سے دشمن ہوا ہے اور پھر بھ ہم اللہ کو چھوڑ کر اپنے دشمن سے دوست کرتے ہیں۔ اور ابلیس کی دوستی یہ ہے کہ ہم اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اور اللہ کی اطاعت نہیں کرتے جو اللہ کا دوست ہوتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔
یہ لوگ اپنے ان دشمنوں کے ساتھ کیوں دوستی رکھتے ہیں حالانکہ ان لوگوں کے پاس نہ علم ہے اور نہ قوت ہے۔ اور نہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے وقت ان لوگوں کو بلایا تھا اور نہ خود ان کی تخلیق کے وقت ان کو بلایا تھا ، بلکہ وہ تھے ہی نہیں۔ اس لئے یہ لوگ اللہ کے غیوب سے کس طرح واقف ہو سکتے ہیں۔ نیز اللہ نے ان کو اپنے مددگار بھی نہیں پیدا کیا کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو۔ اس لئے اس دوستی کا کوئی جواز نہیں ہے۔