ووضع الكتاب فترى المجرمين مشفقين مما فيه ويقولون يا ويلتنا مال هاذا الكتاب لا يغادر صغيرة ولا كبيرة الا احصاها ووجدوا ما عملوا حاضرا ولا يظلم ربك احدا ٤٩
وَوُضِعَ ٱلْكِتَـٰبُ فَتَرَى ٱلْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَـٰوَيْلَتَنَا مَالِ هَـٰذَا ٱلْكِتَـٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةًۭ وَلَا كَبِيرَةً إِلَّآ أَحْصَىٰهَا ۚ وَوَجَدُوا۟ مَا عَمِلُوا۟ حَاضِرًۭا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًۭا ٤٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 49 وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ یہ پوری نوع انسانی کے ایک ایک فرد کی زندگی کے ایک ایک لمحے اور ایک ایک عمل کی تفصیل پر مشتمل ریکارڈ ہوگا۔ گویا یہ ایک بہت بڑا کمپیوٹر سسٹم ہے جو کسی جگہ پر نصب کیا گیا ہے اور وہاں سے لا کر میدان حشر میں رکھ دیا جائے گا۔ آج سے سو برس پہلے تو ایسی تفصیلات کو تسلیم کرنے کے لیے صرف ایمان بالغیب کا ہی سہارا لینا پڑتا تھا مگر آج کے دور میں اس سب کچھ پر یقین کرنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ آج ہم انسان کے بنائے ہوئے کمپیوٹر کے کمالات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اپنے معمولات زندگی میں ان سے استفادہ کر رہے ہیں۔ آج جب ہم ایک بٹن جتنی جسامت کی chip میں مفصل معلومات پر مشتمل ریکارڈ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو ہمیں اللہ تعالیٰ کی وضع کردہ ڈیٹا بیس الکتاب کے بارے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ اس میں کس طرح ایک ایک فرد کی ایک ایک حرکت کی ریکارڈنگ محفوظ ہوگی اور پلک جھپکنے کی دیر بھی نہیں لگے گی کہ اس کا پرنٹ متعلقہ فرد کے ہاتھ میں تھما دیا جائے گا۔فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ مجرم لوگ اپنی کتاب زندگی کے اندراجات سے لرزاں و ترساں ہوں گے۔