یوں یہ قصہ اپنی انتہا کو پہنچتا ہے اس کے آغاز میں اس کے درمیان میں اور اس کی انتہا میں جا بجا وہ ہدایات ہیں جن کی وجہ سے اس قصے کو قرآن میں جگہ دی گئی ہے۔ دینی اور نظریاتی ہدایات ساتھ ساتھ قصے کا فنی انداز بیان بھی نہایت اعلیٰ ہے۔