آیت 26 قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْایعنی اس بحث میں بھی پڑنے کی ضرورت نہیں کہ وہ غار میں کتنا عرصہ سوئے رہے۔ اس کا جواب بھی آپ ان کو یہی دیں کہ اس مدت کے بارے میں بھی اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِيٍّ ۡ وَّلَا يُشْرِكُ فِيْ حُكْمِهٖٓ اَحَدًااس کے سوا ان کا کوئی ساتھی کارساز مددگار حمایتی اور پشت پناہ نہیں ہے۔ لفظ ”ولی“ ان سب معانی کا احاطہ کرتا ہے۔ وہ اپنے اختیار اور اپنی حاکمیت کے حق میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتا۔ یہ توحید حاکمیت ہے۔ اس بارے میں سورة یوسف آیت 40 و 67 میں اس طرح ارشاد ہوا : اِنِ الْحُکْمُ الاَّ لِلّٰہِ ”اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے“۔ جبکہ سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت میں یوں فرمایا گیا : وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْْمُلْکِ ”اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہت میں۔“