قل انما انا بشر مثلكم يوحى الي انما الاهكم الاه واحد فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرك بعبادة ربه احدا ١١٠
قُلْ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٌۭ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۖ فَمَن كَانَ يَرْجُوا۟ لِقَآءَ رَبِّهِۦ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًۭا صَـٰلِحًۭا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِۦٓ أَحَدًۢا ١١٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

پیغمبر خدا یا فرشتہ نہیں ہوتا۔ وہ انسانوں کی طرح ایک انسان ہوتا ہے۔ اس کی مزید خصوصیت صرف یہ ہوتی ہے کہ اس پر غیر مرئی ذریعہ سے خدا کی وحی آتی ہے۔ گویا پیغمبر ایک ایسی ہستی ہے جو اپنے ظاہر کے اعتبار سے ایک انسان ہے اور اپنی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے نمائندہ خدا۔

یہی وجہ ہے کہ حق کو پانے کے لیے جوہر شناسی کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ حق کو پانا صرف اس شخص کے لیے ممکن ہوتا ہے جو حقیقت کو اس کے غیبی روپ میں دیکھ سکے، جو ’’انسان‘‘ کی سطح پر ’’پیغمبر‘‘ کو پہچاننے کا ثبوت دے۔