You are reading a tafsir for the group of verses 18:102 to 18:103
افحسب الذين كفروا ان يتخذوا عبادي من دوني اولياء انا اعتدنا جهنم للكافرين نزلا ١٠٢ قل هل ننبيكم بالاخسرين اعمالا ١٠٣
أَفَحَسِبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَن يَتَّخِذُوا۟ عِبَادِى مِن دُونِىٓ أَوْلِيَآءَ ۚ إِنَّآ أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَـٰفِرِينَ نُزُلًۭا ١٠٢ قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُم بِٱلْأَخْسَرِينَ أَعْمَـٰلًا ١٠٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

کیا لوگوں نے میرے اپنے پیدا کردہ بندوں کو اپنا مددگار بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے ؟ اور اللہ کی حکومت کی گرفت سے انہیں بچائیں گے ؟ اگر انہوں نے ایسا کوئی گمان باندھ رکھا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے اس گمان کے انجام سے دوچار ہونے کی تیاری بھی کرلیں۔

کیا لوگوں نے میرے اپنے پیدا کردہ بندوں کو اپنا مددگار بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے ؟ اور اللہ کی حکومت کی گرفت سے انہیں بچائیں گے ؟ اگر انہوں نے ایسا کوئی گمان باندھ رکھا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے اس گمان کے انجام سے دوچار ہونے کی تیاری بھی کرلیں۔

انا اعتدنا جھنم للکفرین نزلاً (81 : 201) ” ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لئے جھنم تیار کر رکھی ہے۔ “ اللہ بچائے ! کیا ہی خوفناک استقبال ہے۔ اس انجام سے دوچار ہونے کے لئے نہ ان کو کوئی جدوجہد کرنی پڑے گی اور نہ کوئی انتظار کرنا ہوگا۔ یہ سب کچھ ان کے لئے تیار ہے۔ صرف مہمانوں کے پہنچنے کی دیر ہے ؟

اب فکر و شعور کی تاروں پر آخری ضربیں لگائی جاتی ہیں۔ تمام خطوط کو یہاں جمع کر کے اب ان پر آخری تبصرے کئے جاتے ہیں۔

پہلا تبصرہ اسلامی قدروں اور حسن و قبح کے پیمانوں کے بارے میں ہے۔ وہ اقدار اور پیمانے جو گمراہوں اور خسارے سے دوچار ہونے والوں کے ہاں مقبول عام ہیں اور یقینی نتائج کے حالم ہیں۔ اعمال و اشخاص سے متعلق ان کے افکار کی روشنی میں۔