You are reading a tafsir for the group of verses 18:99 to 18:101
۞ وتركنا بعضهم يوميذ يموج في بعض ونفخ في الصور فجمعناهم جمعا ٩٩ وعرضنا جهنم يوميذ للكافرين عرضا ١٠٠ الذين كانت اعينهم في غطاء عن ذكري وكانوا لا يستطيعون سمعا ١٠١
۞ وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍۢ يَمُوجُ فِى بَعْضٍۢ ۖ وَنُفِخَ فِى ٱلصُّورِ فَجَمَعْنَـٰهُمْ جَمْعًۭا ٩٩ وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْكَـٰفِرِينَ عَرْضًا ١٠٠ ٱلَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِى غِطَآءٍ عَن ذِكْرِى وَكَانُوا۟ لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًا ١٠١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

یہ ایک ایسا منظر ہے جو مختلف انسانی گروہوں کی عکاسی کر رہا ہے ، جس میں مختلف گروپ نظر آ رہے ہیں جو مختلف رنگوں ، مختلف علاقوں اور مختلف زمانوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ سب لوگ ایک وسیع میدان میں اٹھائے گئے ہیں اور یہ لوگ بغیر کسی نظام اور ترتیب کے ایک دوسرے کے خلاف گتھم گتھا ہو رہے ہیں ۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کیوں ادھر سے ادھر بھاگ رہا ہے۔ یہ لوگ دریا کی موجوں کی طرح ایک دور سے کے ساتھ ٹکراتے ہیں اور باہم مل جاتے ہیں بغیر کسی انتظام کے۔ پھر ایک صور پھونکا جائے گا۔

ونفخ فی الصور فجمعنھم جمعاً (81 : 99) ” پھر صور پھونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے۔ “ اب وہ ایک صف میں منظر طریقے سے کھڑے ہیں۔

پھر وہ کافر جنہوں نے اللہ کی یاد سے منہ موڑا اور جو اس طرح نظر آ رہے تھے کہ شاید ان کی آنکھوں پر پردے ہیں اور شاید ان کے کانوں میں سننے کی قوت ہی نہیں ہے۔ ان پر جنم پیش ہوگی ۔ اب یہ لوگ جہنم سے اس طرح منہ نہ موڑ سکیں گے جس طرح یہ دنیا میں ہایت سے منہ موڑ رہے تھے۔ اب ان میں موڑنے کی طاقت نہ ہوگی۔ اب ان کی آنکھوں کے اوپر سے پردے ہٹ جائیں گے اب وہ سرکشی اور اعراض کا نتیجہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے یعنی جزاء پوری کی پوری جزائ۔

قرآن کریم نے یہاں اس منظر کو اس طرح پیش کیا ہے کہ ان کے اعراض کی تصویر کو اور ان کے لئے جہنم کی تپیش کو ایک دوسرے کے بالمقبال پیش کیا ہے دونوں چیزیں عملاً حرکت کرتے ہوئے منظر کی صورت میں پیش کی گئی ہیں اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز کلام ہے اور اس تقابلی منظر کشی پر پھر تبصرہ ، نہایت ہی ختلخ اور حقارت آمیز تبصرہ یوں کیا جاتا ہے !