اس طرح کی آیات کو آج جب ایک آدمی پڑھتا ہے تو اسکو تعجب ہوتاہے کہ وہ کیسے ہٹ دھرم لوگ تھے جنھوں نے پیغمبر اعظم (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا انکار کیا۔ اس تعجب کی وجہ دراصل یہ ہے کہ آج کا ایک آدمی منکرین کا تقابل ’’پیغمبر اعظم‘‘ سے کرتاہے۔ جب کہ دورِ اول کے منکرین کے سامنے جو شخص تھا وہ ایک ایسا شخص تھاجو ابھی تک صرف ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ تھا۔ وہ ساری تاریخ اس وقت مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی تھی جس کے بعد دنیا نے آپ کو پیغمبر اعظم کی حیثیت سے تسلیم کیا۔
پیغمبر اپنے زمانے کے لوگوں کو صرف ایک ’’بشر ‘‘ نظر آتا ہے۔ بعد کو جب تاریخی تصدیقات جمع ہوجاتی ہیں تو لوگوں کو نظر آتا ہے کہ یہ واقعی پیغمبر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پیغمبر کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ اس کے ہم زمانہ مخاطبین نے اس کا انکار کیا اور بعد کے لوگ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے۔
موجودہ دنیا میں آدمی حالتِ امتحان میں ہے۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ فرشتوں کے ذریعہ اس کو حق سے باخبر کیا جائے۔ فرشتوں کے ذریعہ حق سے باخبر کرنے کا مطلب حقیقت کوآخری حد تک بے نقاب کردیناہے۔ جب حقیقت کو آخری حد تک بے نقاب کردیا جائے تو اس کے بعد آدمی کا امتحان کس چیز میں ہوگا۔