You are reading a tafsir for the group of verses 17:9 to 17:10
ان هاذا القران يهدي للتي هي اقوم ويبشر المومنين الذين يعملون الصالحات ان لهم اجرا كبيرا ٩ وان الذين لا يومنون بالاخرة اعتدنا لهم عذابا اليما ١٠
إِنَّ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ يَهْدِى لِلَّتِى هِىَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًۭا كَبِيرًۭا ٩ وَأَنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا ١٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قرآن تمام انسانوں کو توحید کی طرف بلاتا ہے۔ یعنی ایک خدا کو مان کر اپنے آپ کو اس کی اطاعت میں دے دینا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے زیادہ صحیح، جس سے زیادہ معقول اور جس سے زیادہ مطابقِ فطرت بات کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ توحید بلاشبہ سب سے بڑی حقیقت ہے اور اسی کے ساتھ سب سے بڑی صداقت۔

توحید کی اس حیثیت کا تقاضا ہے کہ یہی تمام انسانوں کے لیے جانچ کا معیار ہو۔ اسی کی بنیاد پر کسی کو صحیح قرار دیا جائے اور کسی کو غلط۔ کوئی کامیاب ٹھہرے اور کوئی ناکام۔

موجودہ دنیا میں بظاہر یہ معیار سامنے نہیں آتا اور اس کی بنیاد پر انسانوں کی عملی تقسیم نہیں کی جاتی۔ مگر یہ صرف خدا کے قانون امتحان کی وجہ سے ہے۔ انفرادی طورپر موت اور اجتماعی طورپر قیامت اس مدت امتحان کی آخری حد ہے۔ یہ حد آتے ہی انسان دو گروہوں کی صورت میں الگ الگ کردئے جائیں گے۔ توحید کے راستہ کو اختیار کرنے والے اپنے آپ کو جنت میں پائیں گے اور اس کو اختیار نہ کرنے والے اپنے آپ کو جہنم میں۔