ہر انسان پر یہ حالات گزرتے ہیں کہ جب ا س کو راحت اور فراوانی حاصل ہوتی ہے تو وہ زبردست خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ کسی بات کو ماننے کے لیے وہ اتنا کڑا بن جاتا ہے جیسے کہ وہ ایسا لوہا ہے جو جھکنا نہیں جانتا۔ مگر جب اس کے اسباب چھن جاتے ہیں اور اس کو عجز کا تجربہ ہوتا ہے تو اچانک وہ بے ہمت ہوجاتاہے۔ وہ مایوسی سے نڈھال ہو جاتا ہے۔
موجودہ دنیا میں ہر آدمی اپنے بارے میں اس تجربہ سے گزرتا ہے۔ مگر کوئی ایسا نہیں جو اس تجربہ میں اپنے آپ كو دریافت کرلے۔ وہ یہ سوچے کہ دنیا میں جب کہ اسے آزادی حاصل ہے وہ حق کے مقابلہ میں اتنی سرکشی دکھا رہا ہے۔ مگر اس وقت اس کا کیا حال ہوگا جب کہ قیامت آئے گی اور اس سے اس کا سارا اختیار چھین لے گی۔ آدمی کتنا زیادہ کمزور ہے مگر وہ کتنا زیادہ اپنے کو طاقت ور سمجھتا ہے۔
شاکلہ سے مراد ذہنی سانچہ ہے۔ ہر آدمی کے حالات اور رجحانات کے تحت دھیرے دھیرے اس کا ایک خاص ذہنی سانچہ بن جاتا ہے۔ وہ اسی کے زیر اثر سوچتاہے اور اسی کے مطابق اس کا نقطۂ نظر بنتا ہے مگر صحیح نقطۂ نظر وہ ہے جو علم الٰہی کے مطابق صحیح ہو اور غلط وہ ہے جو علم الٰہی کے مطابق غلط ہو۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہے۔ آدمی کو یہ کرنا ہے کہ اس کے شاکلہ نے ا س کا جو ذہنی خول بنا دیا ہے وہ اس خول کو توڑے۔ تاکہ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھ سکے جیسی کہ وہ ہیں۔بالفاظ دیگر، وہ چیزوں کو ربانی نگاہ سے دیکھنے لگے— جو لوگ اپنے ذہنی خول میں گم ہوں، وہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں۔ اور جو لوگ اپنے ذہنی خول سے نکل کر خدائی نقطہ نظر کو پالیں وہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت پائی۔