You are reading a tafsir for the group of verses 17:80 to 17:81
وقل رب ادخلني مدخل صدق واخرجني مخرج صدق واجعل لي من لدنك سلطانا نصيرا ٨٠ وقل جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا ٨١
وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِى مُدْخَلَ صِدْقٍۢ وَأَخْرِجْنِى مُخْرَجَ صِدْقٍۢ وَٱجْعَل لِّى مِن لَّدُنكَ سُلْطَـٰنًۭا نَّصِيرًۭا ٨٠ وَقُلْ جَآءَ ٱلْحَقُّ وَزَهَقَ ٱلْبَـٰطِلُ ۚ إِنَّ ٱلْبَـٰطِلَ كَانَ زَهُوقًۭا ٨١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

پیغمبر اسلام کو عرب کے سردار ’’مذموم‘‘ بنا دینا چاہتے تھے۔ مگر اللہ کا فیصلہ تھا کہ آپ کو ’’محمود‘‘ کے مقام تک پہنچایا جائے۔ اس کے لیے کہ اللہ کا منصوبہ یہ تھا کہ مدینہ میںآپ کے لیے موافق حالات پیدا کيے جائیں اور مکہ سے نکال کر آپ کو مدینہ لے جایا جائے۔ مدینہ میں اسلام کا اقتدار قائم ہو۔ تبلیغی کوشش کے ذریعہ مسلمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ بڑھائی جائے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ مکہ فتح کرلیں اور بالآخر سارا عرب مسخر ہوجائے۔ اس طرح توحید کی پشت پر وہ طاقت جمع ہوجو مسلسل عمل کے ذریعہ ساری دنیا سے شرک کا غلبہ ختم کردے۔

یہی وہ خدائی منصوبہ تھا جس کو یہاں دعا کی صورت میں پیغمبر اسلام کو تلقین کیاگیا۔