وقل رب ادخلني مدخل صدق واخرجني مخرج صدق واجعل لي من لدنك سلطانا نصيرا ٨٠
وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِى مُدْخَلَ صِدْقٍۢ وَأَخْرِجْنِى مُخْرَجَ صِدْقٍۢ وَٱجْعَل لِّى مِن لَّدُنكَ سُلْطَـٰنًۭا نَّصِيرًۭا ٨٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 80 وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ یہ ہجرت کی دعا ہے۔ جب ہجرت کا اذن آیا تو ساتھ ہی یہ دعا بھی تعلیم فرما دی گئی کہ اے اللہ ! تو مجھے جہاں بھی داخل فرمائے یعنی یثرب مدینہ میں عزت و تکریم کے ساتھ داخل فرما وہاں پر میرا داخلہ سچا داخلہ ہو اور یہاں مکہ سے مجھے نکالنا ہے تو باعزت طریقے سے نکال۔ یاد کیجیے کہ سورة یونس کی آیت 93 میں بنی اسرائیل کو اچھا ٹھکانہ عطا کیے جانے کا ذکر بھی ”مُبَوَّاَ صِدْقٍ“ کے الفاظ سے ہوا ہے۔وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًایعنی مدینہ میں جس نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے اس میں اپنے دین کے غلبے کے اسباب پیدا فرما ‘ اور مجھے وہ طاقت قوت اور اقتدار عطا فرما جس سے دین کی عملی تنفیذ کا کام آسان ہوجائے۔ اس دعا میں رسول اللہ کو بالکل وہی کچھ مانگنے کی تلقین کی جا رہی ہے جو عنقریب آپ کو ملنے والا تھا۔ چناچہ تاریخ گواہ ہے کہ مدینہ میں آپ کا استقبال ایک بادشاہ کی طرح ہوا۔ اوس اور خزرج کے قبائل نے آپ کو اپنا حاکم تسلیم کرلیا۔ یہودیوں کے تینوں قبائل ایک معاہدے کے ذریعے آپ کی مرضی کے تابع ہوگئے اور یوں آپ مدینہ میں داخل ہوتے ہی وہاں کے بےتاج بادشاہ بن گئے۔