You are reading a tafsir for the group of verses 17:71 to 17:72
يوم ندعو كل اناس بامامهم فمن اوتي كتابه بيمينه فاولايك يقرءون كتابهم ولا يظلمون فتيلا ٧١ ومن كان في هاذه اعمى فهو في الاخرة اعمى واضل سبيلا ٧٢
يَوْمَ نَدْعُوا۟ كُلَّ أُنَاسٍۭ بِإِمَـٰمِهِمْ ۖ فَمَنْ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ يَقْرَءُونَ كِتَـٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًۭا ٧١ وَمَن كَانَ فِى هَـٰذِهِۦٓ أَعْمَىٰ فَهُوَ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ أَعْمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِيلًۭا ٧٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

دنیا میں ہر انسانی گروہ اپنے رہنماؤں کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ آخرت میں بھی ہر گروہ اپنے اپنے رہنما کے ساتھ بلایا جائے گا۔ اچھے لوگ اپنے رہنما کے ساتھ اور برے لوگ اپنے رہنما کے ساتھ۔

اس کے بعد ہر ایک کو ا س کی زندگی کا اعمال نامہ دیاجائے گا۔ نیک لوگوں کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ ميں اور برے لوگوں کا اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں۔ یہ گویا ایک محسوس علامت ہوگی کہ پہلا گروہ خداکا مقبول گروہ ہے اور دوسرا گروہ اس کا نا مقبول گروہ۔

آخرت میںاچھے اور برے کی جو تقسیم ہوگی وہ اس بنیاد پر ہوگی کہ کون دنیا میں اندھا بن کر رہا اور کون بینا بن کر۔ دنیا میں چوں کہ خدا خود براہِ راست انسان سے ہم کلام نہیںہوتا۔ اس لیے دنیا کی زندگی میں خداکی باتوں کو کائنات کی خاموش نشانیوں اور داعیانِ حق کے الفاظ سے جاننا پڑتاہے۔ جو لوگ اس بالواسطہ کلام سے معرفت حاصل کریں، وہ خدا کی نظر میں ’’بینا‘‘ لوگ ہیں۔ اور جو لوگ بالواسطہ کلام کی زبان نہ سمجھیں اور اس وقت کے منتظر ہوں جب خدا ظاہر ہو کر خود کلام فرمائے گا وہ خدا کی نظر میں ’’اندھے‘‘ لوگ ہیں۔ ایسے لوگوں کا براہِ راست کلام کو سننا کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ وہ اس وقت بھی حقیقت سے بہت دور رہیں گے جیسا کہ آج اس سے دور پڑے ہوئے ہیں۔