You are reading a tafsir for the group of verses 17:61 to 17:62
واذ قلنا للملايكة اسجدوا لادم فسجدوا الا ابليس قال ااسجد لمن خلقت طينا ٦١ قال ارايتك هاذا الذي كرمت علي لين اخرتن الى يوم القيامة لاحتنكن ذريته الا قليلا ٦٢
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَـٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِـَٔادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ قَالَ ءَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًۭا ٦١ قَالَ أَرَءَيْتَكَ هَـٰذَا ٱلَّذِى كَرَّمْتَ عَلَىَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُۥٓ إِلَّا قَلِيلًۭا ٦٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

فرشتے اور ابلیس کا قصہ بتاتاہے کہ ماننے والے کیسے ہوتے ہیں اور نہ ماننے والے کیسے۔ ماننے والے لوگ حق کو حق کے لحاظ سے دیکھتے ہیں چنانچہ اس کو سمجھنے میں انھیں دیر نہیں لگتی۔ وہ فوراً اس کو سمجھ کر اسے مان لیتے ہیں۔ جیسا کہ آدم کی پیدائش کے وقت فرشتوںنے کیا۔

دوسرے لوگ وہ ہیں جو حق کو اپنے ذات کی نسبت سے دیکھتے ہیں۔ شیطان نے یہی کیا۔ ا س نے حق کو اپنی ذات کی نسبت سے دیکھا۔ چوں کہ سجدۂ آدم کا حکم آدم کو بظاہر بڑا بنارہا تھا اور اس کو چھوٹا، اس نے ایسے حق کو ماننے سے انکار کردیا جس کو ماننے کے بعد اس کی اپنے ذات چھوٹی ہوجائے۔

شیطان نے خدا کو جو چیلنج دیا تھا اس کو سامنے رکھ کر دیکھيے تو ہر وہ شخص شیطان کا شکار نظر آئے گا جو حق کو اس لیے نظر انداز کردے کہ اس کو ماننے کی صورت میں اس کی اپنی ذات دوسرے کے مقابلہ میں چھوٹی ہوجاتی ہے۔