آیت 59 وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ اللہ تعالیٰ نے حسی معجزات دکھانے صرف اس لیے بند کردیے ہیں کہ سابقہ قوموں کے لوگ ایسے معجزات کو دیکھ کر بھی کفر پر ڈٹے رہے اور ایمان نہ لائے۔ یہ وہی مضمون ہے جو سورة الانعام اور اس کے بعد نازل ہونے والی مکی سورتوں میں تسلسل سے دہرایا جا رہا ہے۔وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا قوم ثمود کو ان کے مطالبے پر اونٹنی کا بصیرت افروز معجزہ دکھایا گیا مگر انہوں نے اس واضح معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی حضرت صالح پر ایمان لانے کے بجائے اس اونٹنی ہی کو مار ڈالا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ کو مٹی سے زندہ پرندے بنانے اور ”قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ“ کہہ کر مردوں کو زندہ کرنے تک کے معجزات دیے گئے ‘ مگر کیا انہیں دیکھ کر وہ لوگ ایمان لے آئے ؟وَمَا نُرْسِلُ بالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًانشانیاں یا معجزے بھیجنے کا مقصد تو لوگوں کو خبردار کرنا ہوتا ہے سو یہ مقصد قرآن کی آیات بخوبی پورا کر رہی ہیں۔ اس کے بعد اب اور کون سی نشانیوں کی ضرورت باقی ہے ؟ اگلی آیت میں یہی بات تین مثالوں سے مزید واضح کی گئی ہے کہ یہ لوگ کس طرح قرآن کی آیات کے ساتھ بحث برائے بحث اور انکار کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور یہ کہ اللہ نے حسی معجزات دکھانا کیوں بند کردیے ہیں۔