قل ادعوا الذين زعمتم من دونه فلا يملكون كشف الضر عنكم ولا تحويلا ٥٦ اولايك الذين يدعون يبتغون الى ربهم الوسيلة ايهم اقرب ويرجون رحمته ويخافون عذابه ان عذاب ربك كان محذورا ٥٧
قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِۦ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ ٱلضُّرِّ عَنكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا ٥٦ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ ٱلْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُۥ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُۥٓ ۚ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًۭا ٥٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
انسان جن ہستیوں کو اللہ کے سوا اپنا معبود بناتاہے وہ سب وہی ہیں جو اللہ کی مخلوق ہیں۔ مثلاً بزرگ یا فرشتے وغیرہ۔ غور سے دیکھيے تو یہ معبودیت سراسر یک طرفہ ہوتی ہے۔ ان ہستیوں نے خود اپنے خدا ہونے کا دعویٰ نہیں کیاہے۔ یہ صرف دوسرے لوگ ہیں، جو ان کو معبود فرض کرکے ان کی تقدیس و تعظیم میں لگے ہوئے ہیں۔
اگر کسی کو حاضر سے غائب تک دیکھنے کی نظر حاصل ہو اور وہ پوری صورت حال پر نظر کرے تو وہ عجیب مضحکہ خیز منظر دیکھے گا۔ وہ دیکھے گا کہ انسان کچھ ہستیوں کو بطور خود معبود کا درجہ دے کر ان کی پرستش کر رہا ہے۔ اور ان سے مرادیں مانگ رہا ہے جب کہ عین اسی وقت خود ان ہستیوں کا یہ حال ہے کہ وہ اللہ کی عظمت کے احساس سے سہمے ہوئے ہیںاور اس کی رحمت وقربت کی تلاش میں ہمہ تن سرگرم ہیں۔