You are reading a tafsir for the group of verses 17:55 to 17:56
وربك اعلم بمن في السماوات والارض ولقد فضلنا بعض النبيين على بعض واتينا داوود زبورا ٥٥ قل ادعوا الذين زعمتم من دونه فلا يملكون كشف الضر عنكم ولا تحويلا ٥٦
وَرَبُّكَ أَعْلَمُ بِمَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ عَلَىٰ بَعْضٍۢ ۖ وَءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ زَبُورًۭا ٥٥ قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِۦ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ ٱلضُّرِّ عَنكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا ٥٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ یہاں اس فقرے کے سیاق وسباق کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سورة بنی اسرائیل مکی دور کے آخری برسوں میں نازل ہوئی اور اس کا آغاز بھی بنی اسرائیل کی تاریخ سے ہوا۔ اس سورة کے نزول سے پہلے نبی آخرالزماں کی بعثت اور قرآن کے بارے میں تمام خبریں مدینہ پہنچ چکی تھیں اور یہود مدینہ ایک ایک بات اور ایک ایک خبر کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے۔ پھر عنقریب حضور خود بھی مدینہ تشریف لانے والے تھے۔ ان حالات میں جب مسلمانوں کا یہودیوں کے ساتھ عقائد و نظریات کے بارے میں تبادلہ خیالات ہونا تھا تو انبیاء کرام کے فضائل کے بارے میں سوالات کا اٹھنا ناگزیر تھا کہ اگر محمد نبی ہیں تو آپ اور موسیٰ میں سے افضل کون ہیں ؟ یا یہ مسئلہ کہ محمد افضل ہیں یا عیسیٰ ؟ چناچہ اس حوالے سے یہاں ایک بنیادی اور اصولی بات بیان فرما دی گئی کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان میں موجود اپنی تمام مخلوق کے احوال و کیفیات سے خوب واقف ہے اور اس نے اپنے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 253 میں یہی بات یوں بیان فرمائی گئی ہے : تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ ”یہ رسول ہیں ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے“۔ ایسا نہ ہو کہ اس بحث میں پڑ کر آپ لوگ اپنے نبی کی فضیلت اس طرح بیان کریں کہ مخالفین کے منفی جذبات کو ہوا ملے اور وہ تعصب سے مغلوب ہو کر آپ کی بات ہی سننے سے انکار کردیں۔یہ بہت نازک مسئلہ ہے اور اس کی نزاکت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی تمام انبیاء کرام سے افضل ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ سب سے افضل ہیں مگر موقع و محل دیکھے بغیر اپنے اس عقیدے کا اس طرح سے چرچا کرنا درست نہیں کہ اس سے دوسرے مشتعل ہوں اور ان کے مخالفانہ جذبات و خیالات کو انگیخت ملے۔ اس ضمن میں حضور کی واضح حدیث ہے کہ لَا تُفَضِّلُوْا بَیْنَ اَنْبِیَاء اللّٰہِ ”اللہ کے نبیوں کے مابین درجہ بندی نہ کیا کرو“۔ آپ نے مزید فرمایا : لاَ یَنْبَغِیْْ لِعَبْدٍ اَنْ یَقُوْلَ اَنَا خَیْرٌ مِنْ یُوْنُسَ بْنِ مَتّٰی ”کسی شخص کے لیے روا نہیں ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں محمد یونس بن متی ٰسے افضل ہوں“۔ آپ نے یہاں حضرت یونس کا ذکر شاید اس لیے فرمایا کہ حضرت یونس واحد نبی ہیں جن کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ گرفت ہوئی ہے۔ بہر حال آپ نے واضح طور پر اس سے منع فرمایا ہے کہ دوسرے انبیاء پر آپ کی فضیلت کا پرچار کیا جائے۔ وَّاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًااسی سیاق وسباق کی مناسبت سے یہاں بنی اسرائیل کے ایک نبی کا تذکرہ فرما دیا اور آپ کی فضیلت بھی بیان فرما دی کہ حضرت داؤد کو ہم نے زبور جیسی جلیل القدر کتاب عطا فرمائی تھی۔ یہاں پر یہ اشارہ ملتا ہے کہ موقع و محل کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء و رسل کے فضائل اور اعلیٰ مراتب کے ذکر سے ان کی عزت افزائی کرتا ہے۔