افاصفاكم ربكم بالبنين واتخذ من الملايكة اناثا انكم لتقولون قولا عظيما ٤٠ ولقد صرفنا في هاذا القران ليذكروا وما يزيدهم الا نفورا ٤١ قل لو كان معه الهة كما يقولون اذا لابتغوا الى ذي العرش سبيلا ٤٢ سبحانه وتعالى عما يقولون علوا كبيرا ٤٣ تسبح له السماوات السبع والارض ومن فيهن وان من شيء الا يسبح بحمده ولاكن لا تفقهون تسبيحهم انه كان حليما غفورا ٤٤
أَفَأَصْفَىٰكُمْ رَبُّكُم بِٱلْبَنِينَ وَٱتَّخَذَ مِنَ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةِ إِنَـٰثًا ۚ إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلًا عَظِيمًۭا ٤٠ وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِى هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانِ لِيَذَّكَّرُوا۟ وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُورًۭا ٤١ قُل لَّوْ كَانَ مَعَهُۥٓ ءَالِهَةٌۭ كَمَا يَقُولُونَ إِذًۭا لَّٱبْتَغَوْا۟ إِلَىٰ ذِى ٱلْعَرْشِ سَبِيلًۭا ٤٢ سُبْحَـٰنَهُۥ وَتَعَـٰلَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّۭا كَبِيرًۭا ٤٣ تُسَبِّحُ لَهُ ٱلسَّمَـٰوَٰتُ ٱلسَّبْعُ وَٱلْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ۚ وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِۦ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ ۗ إِنَّهُۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًۭا ٤٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
حقیقت اتنی کامل اور مکمل ہے کہ جو بھی خلاف واقعہ بات اس کے ساتھ منسوب کی جائے وہ فوراً بے جوڑ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا معاملہ ہے۔
مشرک لوگ اپنے مفروضہ شرکاء کو خدا کی اولاد کہتے ہیں مگر یہ بات خود ہی اپنے دعوے کی تردید ہے۔ اگر ان شرکاء کو مؤنث قرار دے کر خدا کی بیٹیا ں کہا جائے تو فوراً یہ اعتراض واقع ہوتاہے کہ بیٹیاں خود مشرکین کے اعتراف کے مطابق، کمزور صنف سے تعلق رکھتی ہیں۔ پھر خدا نے کمزور صنف کو اپنا شریک بنانا کیوں پسند کیا۔ کیسی عجیب بات ہوگی کہ خدا انسانوں کو ان کی محبوب اولاد کی حیثیت سے بیٹا دے اور خود اپنے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرے۔
اس کے برعکس، اگر ان شرکاء کو بیٹا فرض کیاجائے جو انسانی تجربات کے مطابق قوت وطاقت کی علامت ہے تب بھی یہ بات ناقابل فہم ہے۔ کیوں کہ اقتدار ایک ناقابل تقسیم چیز ہے۔ جب بھی کسی نظام میں ایک سے زیادہ صاحب طاقت اور صاحب اقتدار ہوں تو ان کے درمیان لازماً کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتاہے کہ اس کو مطلق اقتدار مل جائے۔ اب اگر کائنات میں ایک سے زیادہ طاقت ور ہستیاں ہوتیں تو ان کے درمیان ضرور اقتدار کی جنگ برپا ہوجاتی اور کائنات کے سارے نظام میں اختلال و انتشار پیدا ہوجاتا۔ مگر چوں کہ کائنات میں کوئی اختلال وانتشار نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہاں دوسری ایسی ہستیاں بھی موجود نہیں جو خداکے ساتھ اس کی طاقت میں حصہ دار ہوں۔
شرکاء کو اگر بیٹے کہا جائے تب بھی وہ صورت واقعہ سے ٹکراتا ہے اور بیٹیاں کہا جائے تب بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایسے ہر تصور کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے جس میں خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک کیاگیا ہو۔