ذالك مما اوحى اليك ربك من الحكمة ولا تجعل مع الله الاها اخر فتلقى في جهنم ملوما مدحورا ٣٩
ذَٰلِكَ مِمَّآ أَوْحَىٰٓ إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ ٱلْحِكْمَةِ ۗ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ ٱللَّهِ إِلَـٰهًا ءَاخَرَ فَتُلْقَىٰ فِى جَهَنَّمَ مَلُومًۭا مَّدْحُورًا ٣٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اوپر کی آیتوں میں جو احکام دئے گئے ان کو یہاں حکمت کہاگیاہے۔ حکمت کا مطلب ہے ٹھوس حقیقت، دانائی کی بات۔ یہ باتیں جو یہاں بتائی گئی ہیں یہ زندگی کے محکم حقائق ہیں۔ ان کی بنیاد پر درست زندگی کی تعمیر ہوتی ہے۔ اور جو انسانی معاشرہ ان سے خالی ہو اس کے لیے خدا کی دنیا میں ہلاکت کے سوا اور کوئی چیز مقدر نہیں۔ آج بھی اور آج کے بعد کی زندگی میں بھی۔

مذکورہ بالا نصیحتوں کا بیان توحید سے شروع ہوا تھا (آیت نمبر 22 )، اب ان کا خاتمہ بھی توحید پر کیاگیا ہے (آیت نمبر 39 ) یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ تمام بھلائیوں کی بنیاد یہ ہے کہ آدمی ایک خداکو اپنا خدا بنائے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے محبت کرے۔ خدا سے درست تعلق ہی میں زندگی کی درستی کا راز چھپا ہوا ہے۔ اگر خدا سے تعلق درست نہ ہو تو کوئی بھی دوسری چیز انسانی زندگی کے نظام کو درست نہیں کرسکتی۔ خدا انسان کا آغاز ہے اور وہی اس کا اختتام بھی۔