ہر آدمی جو کچھ اپنی محنت سے کماتا ہے اس کو وہ اپنے اوپر خرچ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم شریعت کا حکم ہے کہ وہ فضول خرچی سے بچے۔وہ اپنے مال کو اپنی واقعی ضرورتوں میں خرچ کرے، نہ کہ فخر اور نمائش کے لیے۔
دوسری بات یہ کہ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی کمائی میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حق سمجھے۔ خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا اس کے پڑوسی ہوں۔ مسافر ہوں یا اور کسی قسم کے حاجت مند ہوں۔
بعض مرتبہ ایسا ہوتاہے کہ آدمی محتاج کو دینے کے قابل نہیں ہوتا۔ تاہم اس وقت کے لیے بھی حکم ہے کہ اگر تم مال دینے کے قابل نہیں تو اپنے ضرورت مند بھائی کو نرم بات دو اور اس سے معافی کا کلمہ کہو۔ کیوں کہ وہ تم کو ایک نیکی کا موقع دینے آیا تھا مگر تم اس موقع کو اپنے لیے استعمال نہ کرسکے۔
اپنے کمائے ہوئے مال کو خدا کی مرضی کے مطابق خرچ کرنے میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے، جو اپنے مال کو بے فائدہ مدوں میں ضائع ہونے سے بچائے۔ ورنہ اس کے پاس مال ہی نہ ہوگا جس کو وہ خدا کے راستوں میں دے۔ حقیقت یہ ہے کہ فضول خرچی شیطان کا ایک حربہ ہے جس کے ذریعہ سے وہ صاحبِ مال کو اس قابل نہیں رکھتا کہ وہ دوسرے ضرورت مندوں کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرسکے۔