دنیا کی کامیابی ہو یا آخرت کی کامیابی، دونوں ہی اللہ کے فراہم کيے ہوئے مواقع اور انتظامات کو استعمال کرنے کا دوسرا نام ہیں۔ جو شخص دنیا کی کامیابی حاصل کرتا ہے وہ بھی خدا کے انتظامات سے فائدہ اٹھا کر ایسا کرتاہے۔ اسی طرح جو شخص آخرت کو اپنا مقصود بنائے اس کے لیے بھی خدا نے ایسے انتظامات کررکھے ہیں جو اس کے آخرت کے سفر کو آسان بنانے والے ہیں۔
دنیا میں کوئی آدمی آگے نظر آتا ہے اور کوئی پیچھے۔ کسی کے پاس زیادہ ہے اور کسی کے پاس کم۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا کی دنیا میں مواقع کی کوئی حد نہیں۔ دنیا میں جو شخص جتنا زیادہ عمل کرتاہے وہ اتنا زیادہ اس کا پھل پاتا ہے۔ اسی طرح آخرت کے لیے جو شخص جتنا زیادہ عمل کا ثبوت دے گا وہ اتنا ہی زیادہ انعام وہاں پائے گا۔ مزید یہ کہ آخرت میں ملنے والی چیز ابدی ہوگی جب کہ دنیا میں ملنے والی چیز صرف وقتی ہوتی ہے۔