ربنا ھولاء شرکادنا الذین کنا ندعوا من دونک (61 : 68) ” اے پروردگار یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے “۔ اب تو وہ اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ” اے ہمارے رب “۔ آج وہ نہیں کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے شرکاء ہیں بلکہ کہتے ہیں ” یہ ہمارے شرکاء ہیں “۔ لیکن وہ تو خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ اور اس عظیم تمہت اور الزام کو سن کو فوراً بول اٹھیں گے کہ تم جھوٹ بولتے ہو ، تم بڑے جھوٹے ہو۔
فالقوا الیھم القول انکم الکذبون (61 : 68) ” وہ دور ہی سے ان کی طرف جواب پھینکیں گے ، بیشک تم تو بہت بڑے جھوٹے ہو “۔ اور یہ شرکاء اور صلحاء اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے نہایت ہی بندگی کی حالت میں۔