You are reading a tafsir for the group of verses 16:76 to 16:77
وضرب الله مثلا رجلين احدهما ابكم لا يقدر على شيء وهو كل على مولاه اينما يوجهه لا يات بخير هل يستوي هو ومن يامر بالعدل وهو على صراط مستقيم ٧٦ ولله غيب السماوات والارض وما امر الساعة الا كلمح البصر او هو اقرب ان الله على كل شيء قدير ٧٧
وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا رَّجُلَيْنِ أَحَدُهُمَآ أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَىْءٍۢ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوْلَىٰهُ أَيْنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ ۖ هَلْ يَسْتَوِى هُوَ وَمَن يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ ٧٦ وَلِلَّهِ غَيْبُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَمَآ أَمْرُ ٱلسَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ ٱلْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ ٧٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اَيْنَـمَا يُوَجِّهْهُّ لَا يَاْتِ بِخَيْرٍ ایک شخص کے دو غلام ہیں۔ ایک غلام گونگا ہے کسی کام کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتا الٹا اپنے مالک پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ کام وغیرہ کچھ نہیں کرتا ‘ صرف روٹیاں توڑتا ہے۔ اگر اس کا آقا اسے کسی کام سے بھیج دے تو وہ کام خراب کر کے ہی آتا ہے۔ هَلْ يَسْتَوِيْ هُوَ ۙ وَمَنْ يَّاْمُرُ بالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَــقِيْمٍ اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک شخص کے دو غلاموں کے حوالے سے دو طرح کے انسانوں کی مثال بیان فرمائی ہے کہ سب انسان میرے غلام ہیں۔ لیکن میرے ان غلاموں کی ایک قسم وہ ہے جو میری نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں مگر میرا کوئی کام نہیں کرتے میرے دین کی کچھ خدمت نہیں کرتے میری مخلوق کے کسی کام نہیں آتے۔ یہ لوگ اس غلام کی مانند ہیں جو اپنے آقا پر بوجھ ہیں۔ دوسری طرف میرے وہ بندے اور غلام ہیں جو دن رات میری رضا جوئی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں نیکی کا حکم دے رہے ہیں اور برائی سے روک رہے ہیں میرے دین کو قائم کرنے کی جدوجہد میں وہ اپنے تن من اور دھن کی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ تو کیا یہ دونوں طرح کے انسان برابر ہوسکتے ہیں ؟