ويجعلون لله ما يكرهون وتصف السنتهم الكذب ان لهم الحسنى لا جرم ان لهم النار وانهم مفرطون ٦٢
وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكْرَهُونَ وَتَصِفُ أَلْسِنَتُهُمُ ٱلْكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ ٱلْحُسْنَىٰ ۖ لَا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ ٱلنَّارَ وَأَنَّهُم مُّفْرَطُونَ ٦٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

انسانی گمراہیوں کی بہت بڑی وجہ خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ کرنا ہے۔ اکثر غلط عقائد اسی لیے بنے کہ خدا کو اس سے کم سمجھ لیاگیا جیسا کہ وہ حقیقۃً ہے۔ حتی کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ جو چیزیں کمتر سمجھ کر وہ خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے (مثلاً بیٹیاں یااپنی مِلک میں کسی اجنبی کی شرکت)، اس کو بھی وہ خداکے لیے ثابت کرنے لگتے ہیں۔

خدا کے اسی کمتر اندازہ کا نتیجہ ہے کہ لوگ خدا پر عقیدہ رکھتے ہوئے خدا سے بے خوف رہتے ہیں۔ وہ نہایت معمولی معمولی چیزوں کے بارے میں یہ عقیدہ بنا لیتے ہیں کہ وہ ان کو خدا کی قربت دے دیں گی۔ اور آخرت کی تمام نعمتیں ان کے حصے میں لکھ دی جائیں گی۔ جو چیز ایک عام انسان کو بھی خوش نہیں کرسکتی اس کے متعلق یہ عقیدہ بنالیا جاتا ہے کہ وہ خداکو خوش کردے گی۔ اس قسم کی کوئی حرکت غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے جس کو خدا کبھی معاف نہیں کرسکتا۔