وما بكم من نعمة فمن الله ثم اذا مسكم الضر فاليه تجارون ٥٣ ثم اذا كشف الضر عنكم اذا فريق منكم بربهم يشركون ٥٤ ليكفروا بما اتيناهم فتمتعوا فسوف تعلمون ٥٥ ويجعلون لما لا يعلمون نصيبا مما رزقناهم تالله لتسالن عما كنتم تفترون ٥٦
وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍۢ فَمِنَ ٱللَّهِ ۖ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ ٱلضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْـَٔرُونَ ٥٣ ثُمَّ إِذَا كَشَفَ ٱلضُّرَّ عَنكُمْ إِذَا فَرِيقٌۭ مِّنكُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ ٥٤ لِيَكْفُرُوا۟ بِمَآ ءَاتَيْنَـٰهُمْ ۚ فَتَمَتَّعُوا۟ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ٥٥ وَيَجْعَلُونَ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ نَصِيبًۭا مِّمَّا رَزَقْنَـٰهُمْ ۗ تَٱللَّهِ لَتُسْـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمْ تَفْتَرُونَ ٥٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
پوری تاریخ کا تجربہ ہے کہ آدمی جب کسی ایسی مصیبت میں پڑتا ہے جہاں وہ اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگے تو اس وقت وہ خدا کو یاد کرنے لگتا ہے۔ منکر اور مشرک دونوں ہی ایسا کرتے ہیں۔ اس تجربہ سے معلوم ہوا کہ خدا کا تصور انسانی فطرت میں پیوست ہے۔ جب تمام دوسرے علائق کٹ جاتے ہیں تو آخری چیز جو باقی رہتی ہے وہ صرف خدا ہے۔
مگر یہ انسان کی عجیب غفلت ہے کہ جب وہ مصیبت سے نجات پاتاہے تو دوبارہ اپنے فرضی خداؤں کی یاد میں مشغول ہوجاتا ہے۔ وہ ملی ہوئی نعمت کو خدا کے بجائے دوسری دوسری چیزوں کی طرف منسوب کردیتاہے۔ اس کو وہ عظیم سبق یاد نہیں رہتا جو خود اس کی فطرت نے چند لمحہ پہلے اس کو دیا تھا۔
شیطان نے فرضی معبودوں كي معبودیت کے عقیدے کو پختہ کرنے کے لیے طرح طرح کی جھوٹی رسمیں عوام میں رائج کررکھی ہیں۔ ان میں سے ایک ہے— اپنی آمدنی میں فرضی معبودوں کا حصہ نکالنا۔ اس قسم کی رسمیں خدا کی دنیا میں ایک بہتان کی حیثیت رکھتی ہیں کیوں کہ وہ خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز کے لیے غیر خدا کا شکر ادا کرنے کے ہم معنی ہیں۔