وقال الذين اشركوا لو شاء الله ما عبدنا من دونه من شيء نحن ولا اباونا ولا حرمنا من دونه من شيء كذالك فعل الذين من قبلهم فهل على الرسل الا البلاغ المبين ٣٥
وَقَالَ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ لَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِن دُونِهِۦ مِن شَىْءٍۢ نَّحْنُ وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن دُونِهِۦ مِن شَىْءٍۢ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ فَهَلْ عَلَى ٱلرُّسُلِ إِلَّا ٱلْبَلَـٰغُ ٱلْمُبِينُ ٣٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

غافل انسان اپنے حق سے انحراف کو جائز ثابت کرنے کے لیے جو باتیں کرتا ہے، اس میں ایک بات یہ ہے کہ جب اس دنیا میں ہر چیز خدا کی مرضی سے ہوتی ہے تو ہمارا موجودہ عمل بھی خدا کی مرضی سے ہے۔ اس کی مرضی نہ ہوتی تو ہم ایسا کرہی نہ پاتے۔ اگر واقعی خدا کو ہمارے کام پسند نہ ہوتے تووہ ہمیں ایسا کام کرنے کیوں دیتا۔ پھر تو ایسا ہونا چاہیے تھا کہ جب بھی ہم اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام کریںتو وہ فوراً ہمیں روک دے۔

یہ بات آدمی صرف اس لیے کہتا ہے کہ وہ حق ناحق کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہوتا۔ اگر وہ سنجیدہ ہوتو فوراً اس کی سمجھ میںآجائے کہ اس کو موجودہ عمل کی جو چھوٹ ہے، وہ امتحان کی وجہ سے ہے، نہ کہ خدا کی پسند کی وجہ سے۔