You are reading a tafsir for the group of verses 16:20 to 16:23
والذين يدعون من دون الله لا يخلقون شييا وهم يخلقون ٢٠ اموات غير احياء وما يشعرون ايان يبعثون ٢١ الاهكم الاه واحد فالذين لا يومنون بالاخرة قلوبهم منكرة وهم مستكبرون ٢٢ لا جرم ان الله يعلم ما يسرون وما يعلنون انه لا يحب المستكبرين ٢٣
وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْـًۭٔا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ٢٠ أَمْوَٰتٌ غَيْرُ أَحْيَآءٍۢ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ٢١ إِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۚ فَٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ قُلُوبُهُم مُّنكِرَةٌۭ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ ٢٢ لَا جَرَمَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْتَكْبِرِينَ ٢٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اکثر شرک کی صورت یہ ہوتی ہے کہ پچھلے بزرگوں کو مقدس اور مقرب مان کر لوگ ان کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ یہ پرستش سراسر احمقانہ ہوتی ہے۔ جن مدفون بزرگوں کی بڑی بڑی قبریں بنا کر لوگ ان سے مرادیں مانگتے ہیں وہ خود مُردہ حالت میں عالم برزخ میں پڑے ہوتے ہیں۔ ان کو خود اپنے بارے میں بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے، کجا کہ وہ کسی دوسرے کی مدد کریں۔

’’وہ تکبر کرتے ہیں‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا سے تکبر کرتے ہیں۔ زمین وآسمان کے خالق سے تکبر کی جرأت کون کرے گا۔ اس سے مراد دراصل خدا کے داعی سے تکبر ہے نہ کہ خود خدا سے تکبر۔ اللہ کا جو بندہ توحید کا داعی بن کر اٹھتا ہے وہ دنیوی اعتبار سے اپنے مخاطبین کے مقابلہ میں ہمیشہ کم ہوتا ہے۔ کیونکہ مخاطب رواجی مذہب کا حامل ہونے کی وجہ سے وقت کے نقشہ میں اونچا درجہ حاصل کیے ہوئے ہوتاہے۔ جب کہ داعی حق ’’نئے دین‘‘ کا علم بردار ہونے کی بنا پر ان درجات ومقامات سے محروم ہوتاہے۔ وہ مخاطبین کو اپنے مقابلہ میں مادی اعتبار سے کمتر نظرآتاہے۔ چنانچہ ان کے اندر برتری کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اس کی بات کو بے وزن سمجھ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔

ایسے لوگوں کا کیس اگر چہ تکبر کا کیس ہوتاہے لیکن وہ اس کو اصولی اور نظریاتی کیس بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مگر اللہ کو لوگوں کی اندرونی نفسیات کا حال خوب معلوم ہے۔ اللہ ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے ان کے ساتھ سلوک کرے گا، نہ کہ ان کی ظاہری باتوں کے اعتبار سے۔