ثم اوحينا اليك ان اتبع ملة ابراهيم حنيفا وما كان من المشركين ١٢٣
ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ ٱتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًۭا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ١٢٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابرھیم حنیفا وما کان من المشرکین (61 : 321) ” اور پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ یکسو ہو کر ابراہیم کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکین میں سے نہ تھا “۔ پس ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ حقیقی رابطہ اس دین جدید کا ہے۔ رہا یہ سوال کہ سبت کی تحریم یعنی ہفتے کے دن دنیاوی کاموں کی ممانعت تو یہ صرف یہودیوں کے ساتھ مخصوص معاملہ تھا۔ اس میں بھی انہوں نے اختلافات کیے۔ سبت کی تحریم کا بھی دین ابراہیم سے تعلق نہیں ہے لہذا سبت کی تحریم دین محمد میں بھی نہیں ہے۔