وعلى الذين هادوا حرمنا ما قصصنا عليك من قبل وما ظلمناهم ولاكن كانوا انفسهم يظلمون ١١٨
وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِن قَبْلُ ۖ وَمَا ظَلَمْنَـٰهُمْ وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ١١٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
یہود کی مذہبی کتابوں میں بعض ایسی کھانے کی چیزیں حرام ہیں جو اسلام کی شریعت میں حرام نہیں کی گئی ہیں (النساء، 4:160 )۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ خود خدا نے دو قسم کے احکام دئے ہیں۔ یہود پر بھی اصلاً وہی غذائی چیزیں حرام ٹھیرائی گئی تھیں جو یہاں (النحل، آیت 115 ) میں مذکور ہیں۔ مگر بعد کو یہود نے خود ساختہ تصورات کے تحت کچھ جائز چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا۔ پیغمبروں کی فہمائش کے باوجود وہ اپنے اس خود ساختہ دین کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوئے۔
مزید یہ کہ اولاًانھوں نے خدا کے حلال کو حرام کیا اور اس طرح اپنے آپ کو ناحق مصیبتوں میں ڈالا۔ اور پھر جب وہ اس حرام پر قائم نہ رہ سکے تو عقیدۃً اس کو حرام سمجھتے ہوئے عملاً اس کواپنے لیے جائز بنالیا۔ اس طرح وہ دہرے مجرم بن گئے۔
آدمی اگر کسی خود ساختہ نظریہ کے تحت ایک جائز چیز کو اپنے لیے ناجائز بنالے اور اس کی خاطر قربانیاں دینا شروع کردے، تو یہ محض اپنی جان پر ظلم کرنا ہوگا، نہ کہ خدا کے راستے ميں قربانی پیش کرنا۔