You are reading a tafsir for the group of verses 16:116 to 16:117
ولا تقولوا لما تصف السنتكم الكذب هاذا حلال وهاذا حرام لتفتروا على الله الكذب ان الذين يفترون على الله الكذب لا يفلحون ١١٦ متاع قليل ولهم عذاب اليم ١١٧
وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ ٱلْكَذِبَ هَـٰذَا حَلَـٰلٌۭ وَهَـٰذَا حَرَامٌۭ لِّتَفْتَرُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ ١١٦ مَتَـٰعٌۭ قَلِيلٌۭ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ١١٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اس آیت کا تعلق عام قانون سازی سے نہیں ہے بلکہ غذائی چیزوں میں حرام وحلال مقرر کرنے سے ہے۔ انسان ہمیشہ یہ کرتارہا ہے کہ وہ کھانے کی چیزوں میں بعض کو جائز اور بعض کو ناجائز ٹھہراتا ہے۔ ایسا یا تو توہمات کے تحت ہوتا ہے یا خواہشات کے تحت۔ مگر اس کو کرنے والے اس کو مذہب کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔

مذکورہ قسم کی تحریم وتحلیل کا یہ نقصان ہے کہ اس سے لوگوں میں توہم پرستی اور خواہش پرستی کا مزاج پیدا ہوتا ہے ۔ جب کہ آدمی کے لیے صحیح بات یہ ہے کہ وہ دنیا میں خدا پرست بن کر رہے۔

موجودہ زندگی میں امتحان کی وجہ سے انسان کو آزادی حاصل ہے۔ توہمات اور خواہشات کو اپنا دین بنانے کا موقع ملنے کی وجہ یہی آزادی ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی تو اچانک انسان پائے گا کہ اس کے لیے ایک ہی ممکن راستہ تھا۔ یعنی خدا پرستی کو اپنا دین بنانا۔ اس کے علاوہ جن چیزوں کو اس نے اپنایا، وہ صرف امتحانی آزادی کا غلط استعمال تھا، نہ کہ اس کا کوئی جائز حق۔ اس وقت اس کو وہی سزا بھگتنی پڑے گی، جو امتحان میں ناکام ہونے والوں کے لیے مقدر ہے۔