You are reading a tafsir for the group of verses 16:101 to 16:102
واذا بدلنا اية مكان اية والله اعلم بما ينزل قالوا انما انت مفتر بل اكثرهم لا يعلمون ١٠١ قل نزله روح القدس من ربك بالحق ليثبت الذين امنوا وهدى وبشرى للمسلمين ١٠٢
وَإِذَا بَدَّلْنَآ ءَايَةًۭ مَّكَانَ ءَايَةٍۢ ۙ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مُفْتَرٍۭ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ١٠١ قُلْ نَزَّلَهُۥ رُوحُ ٱلْقُدُسِ مِن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ لِيُثَبِّتَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهُدًۭى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ ١٠٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ اس کے مختلف حصے 23 سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا کرکے اترتے رہے۔ دعوت وتربیت کے مصالح کے تحت بعض احکام میں تدریج کا طریقہ بھی اختیا رکیا گیا ۔مثلاً پہلے یہ حکم آیا کہ مخالفوں کے مقابلہ میں صبر کرو۔ اس کے بعد یہ حکم آیا کہ ان سے بطورِ دفاع جنگ کرو۔

اس قسم کی ’’تبدیلیوں‘‘ کو لے کر مخالفین یہ کہتے کہ قرآن خدا کی کتاب نہیں۔ یہ محمد کی اپنی تصنیف ہے، جس کو انھوںنے خدا کی طرف منسوب کردیا ہے۔ اگر وہ خدا کی طرف سے ہوتی تو اس میں کبھی اس قسم کی تبدیلیاں نہ ہوتیں۔

مخالفین اگر قرآن کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتے اور تبدیلی کے واقعہ کو صحیح رخ سے دیکھتے تو اس میںانھیں تدریج فی الاحکام کی حکمت نظر آتی۔ مگر جب انھوں نے اس کو غلط رخ سے دیکھا تو تبدیلی کا واقعہ انھیں انسانی علم کی کمی کا نتیجہ نظر آیا، جس چیز میں ان کے لیے تصدیق کا سامان چھپا ہوا تھا اس کو انھوںنے اپنے لیے افترا کا ذریعہ بنالیا۔

قرآن کو حق کے ساتھ اتارا گیا ہے — یہاں حق سے مراد خدا کا خالص اور بے آمیز دین ہے۔ جو لوگ سچائی کے طالب ہوں اور ملاوٹی دینوں میں اطمینان نہ پاتے ہوں، ان کےلیے قرآنی دین میں اپنی تلاش کا جواب بھی ہے اور ان کی تسکین قلب کا سامان بھی۔