لعمرك انهم لفي سكرتهم يعمهون ٧٢ فاخذتهم الصيحة مشرقين ٧٣ فجعلنا عاليها سافلها وامطرنا عليهم حجارة من سجيل ٧٤ ان في ذالك لايات للمتوسمين ٧٥ وانها لبسبيل مقيم ٧٦ ان في ذالك لاية للمومنين ٧٧
لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِى سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ ٧٢ فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّيْحَةُ مُشْرِقِينَ ٧٣ فَجَعَلْنَا عَـٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةًۭ مِّن سِجِّيلٍ ٧٤ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّلْمُتَوَسِّمِينَ ٧٥ وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٍۢ مُّقِيمٍ ٧٦ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَةًۭ لِّلْمُؤْمِنِينَ ٧٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
قوم لوط کا یہ حال کیوں ہوا کہ وہ سرکشی میں آپے سے باہر ہوگئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے معاملہ کو حضرت لوط کی نسبت سے دیکھا۔ چونکہ وہ حضرت لوط کے مقابلہ میں طاقت ور تھے۔ اس لیے انھوں نے سمجھا کہ ہم جو چاہیں کریں، کوئی ہمارا کچھ بگاڑنے والا نہیں۔
اگر وہ معاملہ کو اللہ کی نسبت سے دیکھتے تو صورت حال بالکل برعکس ہوتی۔ اب ان کو معلوم ہوتا کہ ان کی سرکشی سراسر مضحکہ خیز ہے۔ کیوں کہ خداکے مقابلہ میں کسی بھی طاقت ور کی کوئی حیثیت نہیں۔ چنانچہ عین صبح کو ان پر کڑک چمک کا شدید طوفان آیا۔ خدا نے ہواؤں کوحکم دیا اور انھوں نے قوم لوط کی بستیوں (سدوم اور عمورہ) پر کنکریوں کی بارش شروع کردی۔ قوم کی قوم تھوڑی دیر میں تباہ ہو کر رہ گئی۔
اس واقعہ میں غور کرنے والوںکے لیے یہ نصیحت ہے کہ اس دنیا میں کسی کا سابقہ حقیقۃً انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اگر آدمی اس حقیقت کو جان لے تو اس کی ساری سرکشی ختم ہوجائے۔