You are reading a tafsir for the group of verses 15:61 to 15:66
فلما جاء ال لوط المرسلون ٦١ قال انكم قوم منكرون ٦٢ قالوا بل جيناك بما كانوا فيه يمترون ٦٣ واتيناك بالحق وانا لصادقون ٦٤ فاسر باهلك بقطع من الليل واتبع ادبارهم ولا يلتفت منكم احد وامضوا حيث تومرون ٦٥ وقضينا اليه ذالك الامر ان دابر هاولاء مقطوع مصبحين ٦٦
فَلَمَّا جَآءَ ءَالَ لُوطٍ ٱلْمُرْسَلُونَ ٦١ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌۭ مُّنكَرُونَ ٦٢ قَالُوا۟ بَلْ جِئْنَـٰكَ بِمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَمْتَرُونَ ٦٣ وَأَتَيْنَـٰكَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّا لَصَـٰدِقُونَ ٦٤ فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍۢ مِّنَ ٱلَّيْلِ وَٱتَّبِعْ أَدْبَـٰرَهُمْ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌۭ وَٱمْضُوا۟ حَيْثُ تُؤْمَرُونَ ٦٥ وَقَضَيْنَآ إِلَيْهِ ذَٰلِكَ ٱلْأَمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَـٰٓؤُلَآءِ مَقْطُوعٌۭ مُّصْبِحِينَ ٦٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ایک ’’حق‘‘ وہ تھا جس کو لے کر فرشتے حضرت ابراہیم ؑکے پاس آئے تھے۔ دوسرا حق وہ ہے جس کو لے کر وہ حضرت لوط کے پاس پہنچے۔ پہلا حق خداکے خصوصی انعام کی صورت میں تھا۔ دوسرا حق خدا کی خصوصی سزا کی صورت میں۔

حضرت لوط کے پاس فرشتے انسان کی صورت میں آئے۔ یہ فرشتے اس لیے آئے تھے کہ وہ پیغمبر کو نہ ماننے والوں کے درمیان وہ فیصلہ نافذ کردیں جو خدا نے ان کی سرکشی کی بنا پر ان کے لیے مقدر کیاہے۔ ان کی ہدایت کے مطابق، حضرت لوط رات کے اندھیرے میں دوسرے اہل ایمان کو لے کر بستی سے نکل گئے۔ اس کے بعد صبح سویرے شدید زلزلہ کے دھماکوں سے وہ پورا علاقہ تلپٹ ہوگیا۔ تمام منکرین انتہائی بے دردی کے ساتھ ہلاک کردیے گئے۔

یہ ہلاکت کہاں ہوئی۔ یہ ان کی اسی دنیا میں ہوئی جس کو وہ اپنی دنیا سمجھے ہوئے تھے۔ جہاں کی ہر چیز ان کو اپنی ساتھی اور مدد گار دکھائی دیتی تھی۔ خدا جب حکم دیتا ہے تو عین وہی نقشہ آدمی کے لیے ہلاکت کا نقشہ بن جاتاہے، جس کو وہ اپنے لیے کامیابی کا نقشہ سمجھے ہوئے تھا۔ جس محل کے اندر اپنے آپ کو پاکر آدمی فخر کرتاہے اس محل کو اس طرح کھنڈر کردیا جاتا ہے جیسے کہ وہ ایک ملبہ تھا جو آدمی کے سرپر پٹک دیاگیا۔