آیت نمبر 36 تا 38
یہ دربار الٰہی ہے اور یہ حضرت ندامت اور معافی مانگنے کے بجائے مہلت مانگ رہے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ رجوع الی اللہ کریں ، توبہ و استغفار کی کوئی سبیل نکالیں اور گناہ معاف کرا لیں بلکہ وہ آدم اور آدم کی تمام نسل سے انتقام لینے کا اعلان کرتا ہے۔ اگرچہ وہ آدم کے حوالے سے خود اپنے کئے کی وجہ سے مردود ہوا مگر اپنی کوتاہی کو آدم کی طرف منسوب کرتا ہے اور اسے یہ نظر نہیں آتا کہ نافرمانی کا ارتکاب تو کود اس نے کیا ہے اور اپنے غرور استکبار کی وجہ سے کیا ہے۔