You are reading a tafsir for the group of verses 15:34 to 15:38
قال فاخرج منها فانك رجيم ٣٤ وان عليك اللعنة الى يوم الدين ٣٥ قال رب فانظرني الى يوم يبعثون ٣٦ قال فانك من المنظرين ٣٧ الى يوم الوقت المعلوم ٣٨
قَالَ فَٱخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌۭ ٣٤ وَإِنَّ عَلَيْكَ ٱللَّعْنَةَ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلدِّينِ ٣٥ قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِىٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ٣٦ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ ٱلْمُنظَرِينَ ٣٧ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْوَقْتِ ٱلْمَعْلُومِ ٣٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

انسان کی تخلیق کے بعد واقعات نے جو رخ اختیار کیا اس نے شیطان کو مستقل طورپر انسان کا دشمن بنا دیا۔ اب قیامت تک کے لیے آدمی شیطان کی زد میں ہے۔ انسان کے لیے سب سے زیادہ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ وہ شیطان کے فریب سے چوکنا رہے۔ موجودہ دنیا میں یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی کامیابی کا فیصلہ بھی ہورہا ہے اور اسی مقام پر اس کی ناکامی کا فیصلہ بھی۔