You are reading a tafsir for the group of verses 15:10 to 15:15
ولقد ارسلنا من قبلك في شيع الاولين ١٠ وما ياتيهم من رسول الا كانوا به يستهزيون ١١ كذالك نسلكه في قلوب المجرمين ١٢ لا يومنون به وقد خلت سنة الاولين ١٣ ولو فتحنا عليهم بابا من السماء فظلوا فيه يعرجون ١٤ لقالوا انما سكرت ابصارنا بل نحن قوم مسحورون ١٥
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِى شِيَعِ ٱلْأَوَّلِينَ ١٠ وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ١١ كَذَٰلِكَ نَسْلُكُهُۥ فِى قُلُوبِ ٱلْمُجْرِمِينَ ١٢ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۖ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ ٱلْأَوَّلِينَ ١٣ وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَظَلُّوا۟ فِيهِ يَعْرُجُونَ ١٤ لَقَالُوٓا۟ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَـٰرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌۭ مَّسْحُورُونَ ١٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ہر دور میں خداکے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں نے بطور خود جو فرضی معیار کسی کو نمائندۂ خدا قرار دینے کے لیے بنا رکھے تھے، اس پر ان کے پیغمبر پورے نہیں اترتے تھے، اس معیار کے اعتبار سے پیغمبر انھیں کم تر نظر آتا تھا۔ اس لیے لوگوں نے پیغمبروں کو استہزاء کا موضوع بنا لیا۔

کسی نئی حقیقت کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کھلے ذہن کے ساتھ سوچنے اور خالص واقعات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے لیے تیار ہو۔ جو لوگ سچائی کا انکار کرتے ہیں وہ اکثر اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ سچائی ان کو اپنے مانوس معیار کے اعتبار سے اجنبی معلوم ہوتی ہے۔ یہ مانوس معیار لمبے عرصے کے بعد ان کے دل میں ایسا رچ بس جاتا ہے کہ اس سے باہر نکل کر سوچنا ان کے لیے ناممکن ہوجاتاہے۔ وہ آخر وقت تک بھی اپنے مانوس دائرے سے باہر کی سچائی کو پہچان نہیں پاتے۔

قوموں کے اسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ معجزے کو دیکھ کر بھی لوگ ایمان نہیں لائے۔ جس شخصیت کے بارے میں ان کے مادی حالات کی بنا پر ان کا یہ ذہن بن گیا تھا کہ یہ ایک معمولی آدمی ہے وہ پھر بھی ان کی نظر میں معمولی ہی رہا۔ بعد کو اگر اس نے کوئی خارقِ عادت چیز دکھائی تو چونكه دوسرے پہلوؤں کے اعتبار سے وہ بظاہر اب بھی ان کے لیے غیر اہم تھي۔ انھوںنے سمجھ لیا کہ یہ کوئی جادو یا نظر بندی ہے، نہ کہ حقیقۃً ان کے نمائندۂ خدا ہونے کا ثبوت۔