ولا تحسبن الله غافلا عما يعمل الظالمون انما يوخرهم ليوم تشخص فيه الابصار ٤٢ مهطعين مقنعي رءوسهم لا يرتد اليهم طرفهم وافيدتهم هواء ٤٣
وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ غَـٰفِلًا عَمَّا يَعْمَلُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍۢ تَشْخَصُ فِيهِ ٱلْأَبْصَـٰرُ ٤٢ مُهْطِعِينَ مُقْنِعِى رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۖ وَأَفْـِٔدَتُهُمْ هَوَآءٌۭ ٤٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
آدمی کے سامنے حق آتاہے تو وہ اس کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ وہ اس کے مقابلہ میں ایسی بے خوفی کا مظاہره کرتاہے جیسے کہ اس سے زیادہ بہادر دنیا میں اور کوئی نہیں۔
مگر یہی حق جو موجودہ دنیا میں ’’داعی‘‘ کی سطح پر ظاہر ہوتا ہے وہ آخرت میں ’’خدا‘‘ کی سطح پر ظاہر ہوگا۔ اس دن ایسے لوگوں کی ساری بہادری جاتی رہے گی۔ آخرت کا ہولناک منظر دیکھ کر ان کا یہ حال ہوگا کہ جب ان کی نگاہیں اٹھیں گی تو وہ اٹھی کی اٹھی رہ جائیں گی، پلک جھپکنے کی نوبت بھی نہیں آئے گی۔ وہ سر اٹھائے ہوئے تیزی سے میدان حشر کی طرف بھاگ رہے ہوں گے۔ اور ان کے دل دہشت کی وجہ سے اڑ رہے ہوں گے۔