ربنا انك تعلم ما نخفي وما نعلن وما يخفى على الله من شيء في الارض ولا في السماء ٣٨ الحمد لله الذي وهب لي على الكبر اسماعيل واسحاق ان ربي لسميع الدعاء ٣٩ رب اجعلني مقيم الصلاة ومن ذريتي ربنا وتقبل دعاء ٤٠ ربنا اغفر لي ولوالدي وللمومنين يوم يقوم الحساب ٤١
رَبَّنَآ إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِى وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِى ٱلسَّمَآءِ ٣٨ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى وَهَبَ لِى عَلَى ٱلْكِبَرِ إِسْمَـٰعِيلَ وَإِسْحَـٰقَ ۚ إِنَّ رَبِّى لَسَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ ٣٩ رَبِّ ٱجْعَلْنِى مُقِيمَ ٱلصَّلَوٰةِ وَمِن ذُرِّيَّتِى ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ ٤٠ رَبَّنَا ٱغْفِرْ لِى وَلِوَٰلِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ ٱلْحِسَابُ ٤١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
حضرت ابراہیم کی اس دعا میں وہ تمام جذبات جھلک رہے ہیں جو ایک سچے بندے کے اندر خدا کو پکارتے ہوئے امنڈتے ہیں۔ اس کی عبدیت زور کرتی ہے کہ وہ خدا کے سامنے اپنے عجز کا اقرار کرے۔ جو کچھ مانگے احتیاج کی بنیاد پر مانگے، نہ کہ استحقاق کی بنیاد پر۔ایک طرف وہ ملی ہوئی نعمتوں کا اعتراف کرے اور دوسری طرف ادب کے تمام تقاضوں کے ساتھ اپنی درخواست پیش کرے۔ وہ اقرار کرے کہ خدا دینے والا ہے اور انسان پانے والا۔
وہ اپنے رب سے یہ توفیق مانگے کہ وہ دنیا میں اس کا پرستار بن کررہے۔ اسی کی درخواست وہ اپنے لیے بھی کرے اور اپنے اہل خاندان کے لیے بھی اور اسی کی درخواست تمام مومنین کے لیے بھی۔ دعا کے وقت اس کے سامنے جو سب سے بڑا مسئلہ ہو وہ دنیا کا نہ ہو بلکہ آخرت کا ہو جہاںابدی طورپر آدمی کو رہنا ہے۔
ان آداب کے ساتھ جو دعا کی جائے وہ پیغمبرانہ دعا ہے اور ایسی دعا اگرسچے دل سے نکلے تو وہ ضرور خدا کے یہاں قبولیت کا درجہ حاصل کرتی ہے۔