وبرزوا لله جميعا فقال الضعفاء للذين استكبروا انا كنا لكم تبعا فهل انتم مغنون عنا من عذاب الله من شيء قالوا لو هدانا الله لهديناكم سواء علينا اجزعنا ام صبرنا ما لنا من محيص ٢١
وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ جَمِيعًۭا فَقَالَ ٱلضُّعَفَـٰٓؤُا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًۭا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ ٱللَّهِ مِن شَىْءٍۢ ۚ قَالُوا۟ لَوْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَهَدَيْنَـٰكُمْ ۖ سَوَآءٌ عَلَيْنَآ أَجَزِعْنَآ أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٍۢ ٢١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

انسان، بطور واقعہ اگر چہ ہر وقت ’’خدا کے سامنے‘‘ ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں آدمی اپنے آپ کو بظاہر خدا کے سامنے نہیں پاتا۔ آخرت میں یہ پردہ ہٹ جائے گا۔ اس وقت آدمی دیکھے گا کہ وہ اس طرح کامل طورپر خدا کے سامنے تھا کہ اس کی کوئی چیز خدا سے چھپی ہوئی نہیں تھی۔

دنیا میں جو لوگ حق کو نظر انداز کرتے ہیں ان کا سب سے بڑا سہارا ان کے مفروضہ اکابر ہوتے ہیں۔ خواہ وہ مُردہ اکابر ہوں یا زندہ اکابر۔ چھوٹے جو کچھ کرتے ہیں اپنے بڑوں کے بَل پر کرتے ہیں۔ آخرت میں جب یہ لوگ اپنے آپ کو بالکل بے بسی کی حالت میں پائیں گے تو وہ اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم تمھاری رہنمائی پر اعتماد كيے ہوئے تھے، اب یہاں بھی تم ہماری کچھ رہنمائی کرو۔

اس کے جواب میں ان کے بڑے اپنے چھوٹوں سے کہیں گے کہ آج کا دن تو اسی لیے آیا ہے کہ وہ ہمارے بے رہنما ہونے کو بے نقاب کرے۔ پھر اب ہم تم کو کیا رہنمائی دے سکتے ہیں۔ ہماری رہنمائی تو محض وقتی فریب تھی جو پچھلی دنیامیں ختم ہوگئی۔ اب تو یہی ہے کہ تم بھی اپنے بھٹکنے کا نتیجہ بھگتو اور ہم بھی اپنی گمراہی کا نتیجہ بھگتیں۔ ہم چاہیں یا نہ چاہیں، بہر حال اب ہمارا اس کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔